خرید بک لینک
رسول اللہ [ص]کی جاشینی کا مسئلہ ہے، شیعہ عقیدے کی رو سے رسول اللہ[ص] کا حقیقی جانشین آئمہ اہل بیت ہی ہیں اور شیعہ اپنے اس عقیدے پر رسول اللہ [ص] کی احادیث سے استدلال کرتے ہیں اور یہ احادیث بھی شیعہ سنی دونوں کی معتبر ترین کتابوں میں موجود ہیں ۔ ان میں سے بعض اس ایڈرس پر دیکھیںhttp://jafri14.blogfa.com/post/2۔۔۔۔ لہذا اگر کوئی اپنے عقیدے پر دلیل کے طور پر رسول اللہ کی صحیح سند احادیث رکھتے ہو تو اس عقیدے کو کسی اور کی طرف نسبت دینا غیر ذمہ دارانہ کام ہے ۔۔ لہذا پہلا نہ جس کی وجہ سے شیعہ دوسروں سے جدا ہو وہ یہ ہے کہ اہل بیت کے بارے میں رسول اللہ کے واضح فرامین کو نظر اندا ز کرنے سے شیعوں نے

برچسب: کیا,ابن,سبا,شیعہ,عقائد,بنیاد,رکھی, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

اہل بیت ؑ شیعہ اور اہل سنت کی نظر میں : اہل بیت ؑ کی فضیلت میں موجود خاص احادیث کی تفسیر میں شیعہ اور اہل سنت کے درمیان واضح فرق یہی ہے کہ شیعہ اہل بیت ؑ سے محبت اور ان کا احترام امت پر واجب ہونے کے ساتھ ساتھ ائمہ اہل بیت ؑ کی دینی پیشوائی کو بھی انہیں احادیث سے ثابت کرتے ہیں ۔لیکن دوسرے ان احادیث سے اہل بیت ؑ سے محبت اور ان کا احترام مراد لیتے ہیں اور ان کی جانشینی کے معتقد نہیں ہیں ،انہی دو الگ الگ سوچوں کا نتیجہ ہے کہ دوسروں کی کتابوں میں آئمہ اہل بیت ؑ کی سیرت اور تعلیمات بہت ہی کم مقدار میں موجود ہیں ۔جبکہ شیعہ مذہب کی بنیاد ہی اہل بیت ؑ کی تعلیمات پر استوار ہے ۔مثال ک

برچسب: اہل,بیت,بارے,میں,شیعہ,اور,اہل,سنت,اختلاف,کہاں,ہے؟, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

(إِنَّ اﷲَ رَبِّی وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاط مُسْتَقِیم ) بیشک ہمارا اور تمہارا رب خدا ہے اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔ (ذَلِکُمْ اﷲُ رَبُّکُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ فَاعْبُدُوهُ ) وہی خدا تمہارا رب ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو۔ سورہ دخان میں خدا فرماتا ہے: (لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ یُحْیِ وَیُمِیتُ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمْ الْأَوَّلِینَ ) ایک پروردگار کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ زندگی اور موت کا دینے والا ہے وہ تمہارا پروردگار ہے اور تمہارے آباء و اجداد کا پروردگار ہے۔ قرآن مجید نے حض

برچسب: توحید,عبادت,صرف,اللہ, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

توحید کی مشہور اقسام درج ذیل ہیں ۔ الف : توحید ذاتی : یعنی خدا ایک ہی ہے کوئی اس کا شریک اور مثل نہیں۔ ب : توحید صفاتی : یعنی خدا کی صفات اس کی عین ذات اور ذاتی ہے ۔ خدا مخلوقات کی طرح نہیں جن کی ذات اور صفات اور خود صفات آپس میں ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہیں .لہذا خدا اور خدا کی صفات چینی اور مٹھاس کی مانند ہیں ۔ کوئی بھی ان صفات و کمالات میں خدا کی مانند نہیں ۔ خدا کی صفات نامحدود ہیں جبکہ دوسروں کی صفات محدود ہیں۔ ج : توحید افعالی : یعنی اس جہاں میں جو بھی حرکت اور تاثیر وغیرہ موجود ہے. ان سب کا سرچشمہ خدا کا ارادہ

برچسب: توحید,ہمارا,عقیدہ۔, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

یقینا انسان کی خلقت کا ایک مقصد اور ہدف ہے ۔اس ہدف تک پہنچانے کے لئے ہادی کا ہونا ضروری ہے ورنہ یہ حکمت الٰہی کے منافی ہوگا ۔ سوال : انسان کے پاس عقل جیسی عظیم نعمت ہے.عقل سعادت مند زندگی گزارنے کے اصول و قوانین مرتب کرسکتی ہے۔لہذا نبی اور وحی کی کیا ضرورت ہے ؟ جواب :الف: سعادت مند زندگی گزارنے کے لئے عقل ضروری ہے لیکن کافی نہیں ۔ عقل کا دائرہ محدود ہے ،انسان کی عقل بہت سی چیزوں کو سمجھ سکتی ۔ لیکن تمام تر علمی ترقی کے باوجود انسان کی معلومات مجہولات کے مقابلے میں سمندر اور قطرے کی مانند ہیں ۔ انبیاء ؑ انسانی سعادت کے لئے درپیش وہ دستورات لے کر آتے ہیں جن تک عق

برچسب: نبوت,ہمارا,عقیدہ, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

حکومت کی باگ ڈورسنبھالنے کا نام رسول اللہ ﷺ کی جانشینی نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک حاکم ہونے سے پہلے نبی اور دین کے پیشوا اور ہادی تھے ۔ رسول اللہﷺ کی بنیادی ترین ذمہ داری دین کی حفاظت اور دین کی تبلیغ ہے اور اگر ان کو آپ کی ذمہ داریوں سے جدا کرے تو مقام نبوت اور حکومت میں فرق نہیں ہوگا ۔ امام کے لئے ضروری بنیادی صفات اور شرائط : امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ کمالات و فضائل میں سب سے افضل ہو ،جیسے عبادت ، اخلاص ، تقوی، دین داری اور دین کی راہ میں قربانی اور اخلاقی فضائل و کمالات وغیرہ میں سب پر برتری رکھتا ہو اور ہر قسم کے رزائل او

برچسب: امامت,اور,خلافت,ہمارا,عقیدہ, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

اس دور میں امام ؑچار خاص نمائندوں کے ذریعے لوگوں سے رابطے میں رہے ۔اس دور کو غیبت صغریٰ کا دور کہا جاتا ہے ۔ اس کے بعد آپ کی غیبت کبریٰ کا دور شروع ہوا اور یہ اب بھی جاری ہے ۔ اس سلسلے میں امیر المومنین ؑ سے نقل ہوا ہے : ہمارے قائم کی دو غیبتیں ہیں، ان میں سے ایک طولانی ہوگی ۔ صرف صحیح اور مستحکم ایمان والے ان کی امامت پر ایمان کی حالت میں باقی رہیں گے[1] ۔ آپ اللہ کے اذن سے ایک دن ظہور فرمائیں گے اور جناب عیسیؑ آپ کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور آپ ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے ساری دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا کر دیں گے ۔ انشاء اللہ ۔ ہم اور مسئلہ انتظار : روایات م

برچسب: باریویں,امام, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

موت کے بعد فنا اور نابود نہیں ہونا بلکہ آخرت کی جاودانی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے . جہاں پر دنیا میں اچھے کام انجام دینے والے آرام اور سکون سے رہیں گے اور برے کام انجام دینے والے عذاب میں رہیں گے۔موت دنیوی زندگی سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کا ایک پل ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے : وہ قیامت کے دن تم سب کو جمع کرے گا اور وہی ہارجیت کا دن ہوگا اور جو اللہ پر ایمان رکھے گا اور نیک اعمال کرے گا خدا اس کی برائیوں کو دور کردے گا اور اسے ان باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان ہی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے. ( سورہ تغابن / 9) دنیوی

برچسب: عقیدہ,معاد, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

مثلا امیر المومنینؑ نے جو طریقہ رسول اللہﷺ سے سیکھا تھا وہی طریقہ انہوں نے اپنے فرزندوں کو سکھایا اور دوسرے ائمہ ؑ نے بھی اپنے فرزندوں اور شاگردوں کو یہی طریقے سکھایا ۔ ائمہ اہل بیتؑ کی تعلیمات اور سیرت کا حقیقی وارث شیعہ ہی ہیں۔ شیعہ ہی نسل در نسل دینی تعلیمات کے حصول میں ائمہ اہل بیت ؑ سے وابستہ رہے ہیں ۔ اس کی واضح دلیل ائمہ ؑ کی تعلیمات اور سیرت سے لبریز شیعوں کی معتبر کتابیں ہیں ۔ لہذا بعض دینی امور کے انجام دہی میں دوسروں سے الگ طریقہ اپنانے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے یہ طریقے ائمہ اہل بیت ؑ سے لیا ہے اور اس کے علاوہ اس قسم کا جو بھی مسئلہ ہو ہم

برچسب: بعض,خاص,اختلافی,مسائل, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

صفحه بندی